بزم اطفال

alhaider live لائیو الحیدر

welcome

We have 4 guests online

خواتین

گردش لیل و نہار

mod_vvisit_countermod_vvisit_countermod_vvisit_countermod_vvisit_countermod_vvisit_countermod_vvisit_counter
mod_vvisit_counterآج کے صارفین57
mod_vvisit_counterکل کے صارفین81
mod_vvisit_counterاس ہفتے1255
mod_vvisit_counterگزشتہ ہفتے781
mod_vvisit_counterاس مہینے3704
mod_vvisit_counterآخری مہینہ23289
mod_vvisit_counter۱۳ رجب سے اب تک413023

We have: 4 guests online
Your IP: 54.198.139.141
 , 
Today: Apr 23, 2014


اقوال زرین

امام موسیٰ کاظم کی راہنما باتیں

جناب سید سجاد حیدر صفوی صاحب حندوستان

 

خدا کے نیک بندوں کی زندگی ،ان کی سیرت،ان کا کردار اور ان کا طرز حیات ہمارے لئے نمونہ عمل ہے تاکہ ہم ان کی زندگی کے روزوشب کے لمحات نظر میں رکھ کر اپنی زندگی میں پائے جانے والے نشیب و فراز سے کامیابی کے ساتھ گذر سکیں۔جس طرح ان کی سیرت آئیڈیل ہے اسی طرح سے ان کی زبان مبارک سے نکلنے والے نوارنی کلمات بھی ہماری تاریک زندگی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں اس چراغ کے مانند ہیں جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خلوص دل کے ساتھ خدا کے لئے چالیس دن مخصوص کر دے اور ان چالیس دنوں میں اس کا اٹھنا ،بیٹھنا،کھانا پینا،سونا جاگنا،رفتارو گفتار سب کچھ خدا کے لئے ہو تو خدا اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری کردیتا ہے ،پھر وہ افراد جنہوں نے نہ صرف چالیس دن بلکہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کی ہے وہ یقینا علم وحکمت کے ایسے سمندر ہوں گے جن کی کوئی حد نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب ہم انبیائے الٰہی ،اولیائے خدا اور ائمہ معصومین کے نورانی کلمات پڑھتے اور سنتے ہیں تو اس کی طرف جذب ہوتے چلے جاتے ہیں۔

ان اولیاء خدا میں ایک ہستی امام موسیٰ کاظم کی بھی ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی خدا کی مرضی کے مطابق بسر کی اور ایک ایک لمحہ اس کی رضایت کے لئے وقف کردیا ،اس عظیم المرتبت شخصیت کی مبارک زبان سے نکلے ہوئے نورانی کلمات کی کچھ روشنی ہم محترم قارئین کے لئے پیش کررہے ہیں تاکہ سب اس کی روشنی میں زندگی کا اجالا تلاش کرسکیں۔آپ فرماتے ہیں کہ چار کام ایسے ہیں جو شیطان کے وسوسہ کا سبب بنتے ہیں:(١)مٹی کھانا.(٢)مٹی کو ہاتھ میں لے کر اس کو ریزہ ریزہ کرنا.(٣)دانتوں سے ناخن کاٹنا.(٤)اور دانتوں سے داڑھی چبانا۔

اور تین چیزیں ایسی ہیں جو انسان کی آنکھوں کی روشنی بڑھاتی ہیں:(١)سبزہ دیکھنا.(٢)بہتے ہوئے پانی پر نگاہ کرنا.(٣)خوبصور ت اور نورانی چہرہ دیکھنا۔

٭ایک اچھا پڑوسی ہونا صرف یہ نہیں ہے کہ اپنے پڑوسی کو کوئی اذیت اور تکلیف نہ دی جائے بلکہ اچھا پڑوسی ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر کوئی پڑوسی اذیت پہنچائے تو اس پر صبر کیا جائے۔

٭تمہارے اور تمہارے دوست یا بھائی کے درمیان جو احترام پایا جاتا ہے اسے ختم نہ کرو بلکہ جہاں تک ہوسکے اسے باقی رکھنے کی کوشش کرو اس لئے کہ اگر یہ احترام ختم ہوگیا تو حیا بھی چلی جائے گی۔

٭آپ نے اپنے ایک بیٹے سے کہا:بیٹا!ہوشیار رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا تمہیں کوئی ایسا کا م کرتا دیکھ لے جس سے اس نے تمہیں منع کیا ہے،کہیں ایسا نہ ہوکہ جس کام کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے اسے چھوڑتے ہوئے دیکھ لے۔

٭کوشش کروکہ اپنے دن بھر کے وقت کو چار حصوں میں تقسیم کرو:

١۔ایک حصہ خدا کی عبادت ، اس سے رازونیاز اور دعاء و مناجات کرنے میں۔

٢۔ایک حصہ اپنے ضروری کاموں اوراپنے و اپنے بیوی بچوں کے لئے حلال روزی کمانے میں ۔

٣۔ایک حصہ اپنے ان دوستوں اور افراد کے ساتھ نشست و برخاست میں جو تمہیں تمہارے نقائص و عیوب سے آگاہ کریں اور تمہارے ساتھ مخلص ہوں ۔

٤۔اور ایک حصہ اپنی حلال اور جائز شہوتوں او ر حاجات کو پورا کرنے میں،اور اس چوتھے حصہ کے لئے تم باقی تین حصوں کے ذریعہ سے طاقت اورقوت حاصل کرو۔

٭اپنے لئے تنگدستی اور طولانی عمر کا مطالبہ نہ کرو اس لئے کہ تنگدستی کا مطالبہ انسان کو بخیل بنا دیتا ہے اور طولانی عمر کا تقاضہ لالچ میں پڑنے کا سبب ہے ،اس دنیا سے اپنے لئے صرف اتنا حاصل کرو جتنی تمہاری ضرورت ہے اس لئے کہ اس سے زیادہ تمہارے کام آنے والا نہیں ہے۔

٭جب انسان کوئی ایسا گناہ کرتاہے جو اس نے پہلے نہیں کیا تھا تو خدا اسے ایسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے جو اس نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

٭ایک بار آپ نے دو آدمیوں کو دیکھا جو ایک دوسرے کو برا بھلاکہہ رہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے ،آپ نے فرمایا:ابتدا کرنے والا زیادہ ظالم ہے اور دوسرے کا گناہ بھی اس کے اوپر ہوگا جب تک کہ وہ (دوسرا)تجاوز نہ کرے۔

٭ہر چیز کی ایک پہچان ہوتی ہے اور عقلمند کی پہچان غوروفکر کرنا ہے اور غوروفکر کی پہچان خاموشی ہے۔

٭عقلمند وہ ہے جسے جائز اور حلال، شکر خدا سے غافل نہ کردے اور حرام اس کے صبر پر غالب نہ آجائے۔

٭جو زبان کا سچا ہوتاہے وہ باکردار ہوتا ہے ،جس کی نیت خالص ہوتی ہے اس کی روزی میں اضافہ ہوتا ہے اور جو اپنے دوستوں،بھائیوں اور رشتے داروں سے خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے اس کی عمر لمبی ہوتی ہے۔

٭حکمت کو نادان کے حوالے نہ کرو ،کیونکہ ایسا کیا تو تم نے حکمت پر ظلم کیا اور جو اس کا اہل ہے اس سے حکمت کو نہ چھپائو کیونکہ اگر ایسا کیا تو اس شخص پر ظلم کیا۔

٭جس طرح دنیا داروں نے حکمت کو تمہارے لئے چھوڑ دیا اسی طرح تم بھی دنیا کو اس کے لئے ترک کردو۔

٭آپ حضرت علی سے نقل کرتے ہیں ہوئے فرماتے ہیں کہ اس شخص کی محفل میں بیٹھا کرو جس  کے اندر یہ تین خصوصیتیں پائی جاتی ہوں:

١۔اگر اس سے کچھ پوچھا جائے تو اس کا صحیح اور اطمینان بخش جواب دے۔

٢۔جب سب لوگ بول کر تھک جائیں او ر قاصر ہوجائیں تو وہ بولے۔

٣۔ایسی بات اور نظریہ بیا ن کرے جو لوگوں کے ئے مفید ہو۔

جو کسی ایسے شخص کی محفل میں بیٹھے جس کے اندر ان تین خصوصیات میں سے ایک بھی نہ پائی جاتی ہو ،وہ بیوقوف ہے۔

٭عقلمند کبھی جھوٹ نہیں بولتا اگر چہ اس کا دل اسے اس پر آمادہ بھی کرتاہو۔

٭سب لوگ ستاروکو دیکھتے ہیں لیکن اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا پاتے ہیں جو ستاروں کے راستوں اور منزلوں سے واقف ہیں اسی طرح ہر ایک حکمت حاصل کرتاہے لیکن صرف وہی فائدہ اٹھا پاتا ہے جو اس پر عمل کرتاہے۔

٭جس طرح تم گیہوں کو صاف کرنے کے بعداچھی طرح پیستے ہو اور اس سے آٹا بناتے ہو تاکہ اسے کھاکر لطف اٹھاتے ہو اسی طرح اپنے ایمان کو بھی پاک و صاف اور خالص بنائو تاکہ اس کی مٹھاس کو حاصل کرسکو اور اس سے فائدہ اٹھا سکو ۔

٭دنیا کی مثال اس دریا کے پانی کی طرح ہے جس کے پینے سے انسان کی پیاس بڑھتی ہے یہاں تک وہ ہلاک ہوجاتاہے ۔

٭جو اپنا سر چھت سے لڑانے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنا سر پھوڑ بیٹھتا ہے اور جو اپنا سر چھت سے نیچے رکھتا ہے وہ اس کے سائے میں رہتا ہے اسی لئے جو غروروتکبر اور سر اٹھا کر چلتا ہے خدا اسے نیچے کردیتا ہے اور جو تواضع اور انکساری سے کام لیتا ہے ،خدا کا لطف و کرم اس پر سایہ فگن ہوجاتا ہے۔